5 جولائی 2018 - 17:09
صہیونی ریاست کا بشار الاسد کے مقابلے میں شکست کا اعتراف

صہیونی وزیر نے شام کے صدر جمہوریہ بشار الاسد کی کامیابیوں کے مقابلے میں اپنی شکست کا اعتراف کرنے کے باوجود ’’اسرائیل‘‘ کے برتر ہونے کا دعویٰ کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، الاخبار روزنامے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست شکست قبول کرنے میں صرف ہٹ دھرمی کا مظاہرہ اور شرم کا احساس کر رہی ہے ورنہ شام کے مقابلے میں اسے واضح شکست کا سامنا ہوا ہے۔
اسرائیلی وزیر توانائی نے تو ایک طرف شام میں تل ابیب کی شکست کا اعتراف کیا ہے لیکن دوسری طرف اس بات کا دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل علاقے میں سب سے برتر ملک ہے۔
روزنامہ الاخبار نے لکھا ہے کہ صہیونی کیبنٹ کے وزیر توانائی ’’یووال اسٹائنٹز‘‘ نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل شام میں بشار الاسد کو حاصل شدہ کامیابیوں کے سامنے شکست سے دوچار ہو چکا ہے اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیل علاقے میں ایک برتر ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔
واضح ہے کہ اس صہیونی وزیر نے اپنے بیان میں تناقض گوئی سے کام لیا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ اسرائیلی حکام کی باتوں میں یہ تناقض گوئی پہلی بار سننے کو آئی ہو بلکہ اکثر اوقات خصوصا جب انہیں اسرائیل کی شکست کا احساس ہوتا ہے اور ظلم و ستم کے بھنور میں اپنی کشتی ڈوبتی ہوئی دیکھتے ہیں تو تناقض بیانی سے کام لیتے ہیں۔
دریں اثنا، صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اپنے ایک بیان میں ۱۹۷۴ کی قرارداد کی طرف واپس لوٹتے ہوئے اس کی تمام شقوں کو اجراء کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجیں اپنے دائرہ حدود میں رہیں گی اور یہ بھی در حقیقت نیتن یاہو کا اپنی شکست پر اعتراف ہے اور اسکا دمشق کے مقابلے میں سرخم تسلیم ہونا ہے۔
اسرائیل کا شام کے مقابلے میں ضمنی طور پر شکست کا اعتراف اگر چہ لومڑی والا مکارانہ اعتراف ہے لیکن یہ اعتراف ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ تل ابیب اور اس کے پروردہ مسلح افراد نے ملک شام کے بنیادی ڈھانچوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور ہزاروں جانوں کو موت کی آغوش میں سلا دیا۔
بہر حال نیتن یاہو کے یہ بیانات در حقیقت حقائق کو چھپانے اور اپنی شکست پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہیں اس لیے کہ اسرائیل اور اس کے زیر حمایت مسلح افراد نے عمداً ۱۹۷۴ کی قرارداد کی مخالفت کی اور وہ شام کے اندرونی شہروں تک گھس گئے اور اس کوشش میں تھے کہ شام کی قانونی حکومت کو گرا کر ملک پر اپنا قبضہ جما لیں گے لیکن جب بشار الاسد کی طرف سے منہ کی کھانی پڑی تو اب دبے دبے لفظوں میں اپنی شکست کا اعتراف کر کے ۱۹۷۴ کی قرارداد پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اور یہ مطالبہ خود اسرائیل کی واضح شکست کا ثبوت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲